دمجلاتو دافغانستان اسلامي امارت وب سایت
نئی مضامین

کابل ادارے کے ہاتھ عام شہریوں کا مسلسل قتل عام اوردنیا کی دردناک خاموشی

ماہنامہ شریعت کا اداریہ

افغان قوم اور پوری با خبر دنیا کے علم میں ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سےغاصب امریکی فوج کے تعاون سے کابل ادارے کے غلام مسلح افراد نے وطن عزیز میں مظلوم عوام پرچھاپہ مار کارروائیوں اوربمباریوں پر جتنا زوردیاہے اوراس کے نتیجے میں جو عام شہری شہیدہورہے ہیں شائد اس کی مثال گزشتہ 19 سال میں نہ ملے ۔
آج تین اپریل کو یہ چند سطورلکھتے ہوئے ملک کے با اعتماد نشریاتی اداروں کی جانب سے شا‏ئع شدہ رپورٹس میں پڑھ رہاہوں کہ گزشتہ دو ہفتوں میں امریکی فوج کے تعاون سے کٹھ پتلی فوج نے مظلوم عوام پر 52 چھاپہ مار کارروائیوں اوربمباریوں میں خواتین، بوڑھوں، علما‍‌ء اور بچوں سمیت 67 شہریوں کو زخمی اور 94 کو شہید کردیاہے ۔
عام شہریوں کے اس قتل عام کے زیادہ تر واقعات جنہیں سوشل میڈیا کے ہوتے ہوۓ پوشیدہ نہیں رکھا جاسکتاتو مجبورا ملکی اور غیرملکی میڈیاپر ان کی خبریں نشرکی جاتی ہیں جس کی بدولت دنیا کو افغانستان میں روارکھی جانے والی اس وحشت کا پتہ چل جاتاہے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ پوری مہذب دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور اس وحشت کے بارے میں نہ عالمی دنیا کی جانب سے کوئی موقف سامنے آتاہے اور نہ ہی عالمی ذمہ داراداروں کی جانب سے کوئی ری ایکشن دکھائی دیتاہے ۔
جی ہاں پوری دنیا خاموش ہے ،صرف مظلوم افغان قوم ہے جو اس وحشت اور قتل عام کے سامنے کھڑی ہے ،کٹھ پتلی ادارے سے نفرت کا اظہار کرتی ہے ،وحشی کارروائیوں اور واقعات کے بعد مظاہرے کرتے ہوۓ امارت اسلامیہ کے ساتھ علی الاعلان اپنی ہمدردی اور تعاون کا اظہارکرتے ہیں ۔
شہریوں کے ساتھ ساتھ ملکی چینلزمیں کی جانے والی ٹاک شوز اور گول میز کانفرنسز میں تمام غیرجانب دار تجزیہ نگار کابل ادارے پر پہلے سے زیادہ غصہ اورمعترض ہیں ،وہ واشگاف الفاظ میں کہہ رہے ہیں کہ ان تمام تر حملوں اوربمباریوں میں لوگوں کے گھر،مدارس ، سکولز، علاج کے مراکز،بازار اورمساجد جلاکر ختم کردیاجاتاہے ۔ صرف عام شہری ہی نشانہ بنتے ہیں جن میں بوڑھے، بچے ،خواتین ،مدارس اورسکولز کے طالب علم اور اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ امریکیوں کے کاسہ لیس غلاموں کو امارت اسلامیہ کی عسکری اور سیاسی کامیابیاں ہضم نہیں ہورہی ہیں اس لئے وہ اپنی شکست کابدلہ افغان شہریوں سے لے رہے ہیں اورراتوں کو گھروں پر چھاپے مارکر بچوں ،بڑوں ،خواتین اوربوڑھوں کو بلاامتیازبڑی بے دردی کے ساتھ شہیدکررہے ہیں اورصبح اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے اتنے اتنے طالبان کو ماردیاہے ۔حالانکہ ان کی ہررات کی جانے والی کارروائی کے بعد صبح لوگ ان کے خلاف مظاہرے کرتے ہیں، شہیدہونے والوں کی لاشیں بازاروں اور سڑکوں پہ لاکر رکھ دیتے ہیں لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ، زیادہ سے کچھ کہیں تو یہ کہ ہم تحقیقات کریں گے اوربس ۔
کابل ادارے کے حکمران ابھی بھی اپنے طول اقتدار کے خواب دیکھ رہے ہیں،جوکہ اس ادارے کی بڑی حماقت ہے ۔ کابل ادارے کی ساکھ اب خاک میں مل چکی ہے ۔اب ہ‍‌زار کوششوں کے باوجود اپنے فوجیوں کے گرتے ہوئے مورال کو بلند نہیں کرسکے گا۔ گزشتہ چند مہینوں میں غلام آرمی کی صفوں میں سے ہزاروں فوجی بھاگ گئے ہیں ، فوجیوں کی فرار کابل ادارے اوران کی تربیت کنندہ امریکہ کے لئے بہت بڑے نقصان اورخطرے کی بات ہے۔
طالبان کی کامیاب پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بجا بے کہ مستقبل قریب میں یہ تعداد مزیدبڑھ کر کٹھ پتلی ادارہ کرایہ کےاس فوج سے ہاتھ دھوبیٹھے گا۔
عجیب بات یہ ہے کہ وہ مغربی دنیا جو خود کو انسانی حقوق کی علمبردار سمجھتی ہے اوراپنے ممالک میں بدامنی کے ایک چھوٹاسا واقعہ پیش آنے پر پوری دنیا کو سرپر اٹھالیتے ہیں لیکن یہاں اس قدر بڑی وحشت پر نہ صرف یہ کہ خاموش ہے بلکہ مالی اورسیاسی تائید کی وجہ سے اس وحشت میں ایک طرح سے شریک بھی ہیں ۔
مغرب کی دردناک خاموشی سے زیادہ قابل صدافسوس اقوام متحدہ کی خاموشی ہے ۔
آپ دیکھیں 2002 میں اقوام متحدہ نے افغانستان میں ملکی نقصانات کو روکنے اور دیگرانسانی حقوق کی پاسداری کے لئے (یوناما) کے نام سے دفترقائم کیا ،اگرچہ اس دفتر سے وقتافوقتا اس حوالے سے اواز اٹھائی گئی ہے ،رپورٹس بھی شائع کئے لیکن افسوس کہ اقوام متحدہ کے یہ رپورٹس غیرجانبداری پر مبنی نہیں ہیں ۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ملکی نقصانات کو روکنے پر توجہ دی گئی ہے اورنہ اس حوالے سے کوئی عملی قدم اٹھایاگیاہے ۔
اقوام متحدہ اورخصوصا سلامتی کونسل کو چاہئے کہ اب امریکی دباؤسے باہرنکل کر اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے نبھائے اورافغانستان میں ملکی نقصانات کی روک تھام کی خاطر کابل ادارے کے حکمرانوں کے خلاف مضبوط اقدامات کرے
ہم پوری مہذب دنیا سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ اس وحشت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی اپنی حکومت پر دباؤ ڈالیں تاکہ امریکہ کی حمایت اور کٹھ پتلی ادارے کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے اورافغانوں کواپنے فیصلے اپنے ہاتھ سے لکھنے کے لئے آزاد چھوڑدے۔

اړوند نور مطالب او مجلې

بمباریوں اوروحشت میں اضافہ کیوں ؟

Habibullah Helal

امن معاہدہ اور منسوخ کروانے کی سازشیں

Habibullah Helal

امیرالمؤمنین حفظہ اللہ کا عید پیغام، افغانستان کے موجودہ مسائل کے حل اور بہتر مستقبل کی ضمانت

Habibullah Helal